More Stories

Nafarat Ki Sheyast Urdu Article by Waseel Khan

by

نفرت کی سیاست!

کسی بھی ملک کی تشکیل کا مقصد معقول نظم و نسق اور امن و انصاف کا قیام ہوتا ہے اور اس کے حصول کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ قوانین و آئین وسیع تناظر میں اس طرح مرتب کئے جائیں کہ رعایا کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی ظلم و جبر نہ ہوسکے اور سبھی کو یکساں انصاف اور آزادی ٔ ضمیرحاصل ہو ۔بدقسمتی سے اگر ایسا ممکن نہ ہوسکا تو پورے ملک پر اس کے انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ملک بدامنی اور انتشار کا شکار ہوجاتا ہے ۔آج کم و بیش یہی صورتحال ہمارے سامنے ہےجس کے نتیجے میں نفرت ،بغض و عداوت اور فرقہ پرستانہ سیاست کی ایسی تیز آندھی چل پڑی ہے کہ سانس لینا بھی دشوار ہوگیا ہے ۔اس بدترین صورتحال کے تدارک کیلئے اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والی نسلوںکے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا ۔تاریخ کے اوراق میں یوں تو بیشمار واقعات مثبت و منفی شکلوں میں موجود ہیں ہمیں اپنی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان واقعات سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔زندہ قومیں ان واقعات کی روشنی میں اپنے گردو پیش کے حالات کاصحت مندانہ تجزیہ کرتی ہیں اور پھرسخت جدوجہد کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرلیتی ہیں ۔

کہتے ہیں کہ ماضی میں خلیفہ ہارون رشید کے دور اقتدار میں (یاد رہے کہ اس وقت کوئی پارلیمانی نظام نہیں تھا بلکہ بیشتر خلیفہ یا بادشاہ مطلق العنان ہوتے تھے ) ایک بڑھیا فریاد لے کر دربار میں پہنچی اس نے خلیفہ سے کہا کہ میرے ساتھ انصاف کیجئے اور میری وہ زمین واپس دلوایئے جس پر میری مرضی کے خلاف جبرا ًقبضہ کرلیا گیا ہے ،خلیفہ نے استفسار کیا کہ بڑی بی تمہیںانصاف ضرور ملے گا لیکن اس شخص کا نام تو بتاؤ جس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ۔بڑھیا نے بڑی بے خوفی کے ساتھ قدرے بلند آواز میں کہا کہ وہ شخص اس وقت نہ صرف اس دربار میں موجود ہےبلکہ آپ کے ہی ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔خلیفہ کے دائیںجانب اس کابیٹاولی عہد سلطنت موجودتھا، خلیفہ نے شہزادے سے پوچھا ، کیا تم پر بڑھیا کے لگائے گئے الزامات درست ہیں ،شہزادہ گھبراگیا ،اس پر سکتہ جیسی کیفیت طاری ہوگئی ،خوف کے سبب وہ اٹک اٹک کر جواب دے رہا تھا اس کے برعکس بڑھیا کافی تیز اور تیکھے انداز میں اپنا موقف پیش کررہی تھی ،کچھ درباریوں نے اس کے انداز تخاطب پر برہمی کا اظہارکیا ،اسے درباری توہین قرار دیتے ہوئے خلیفہ سے شکایت کی لیکن خلیفہ نے ان کی باتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے کہنے دو صداقت نےاس کی آواز کو تیز کردیا ہے اگر وہ اپنے موقف میں درست نہ ہوتی تو اس کی آواز میں اتنی شدت اور بے باکی نہ ہوتی ،اس کے برعکس شہزادے کی آواز میں کمزوری اور خوف کے ملے جلے اثرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس کا موقف مضبوط نہیں، اس کے من میں کھوٹ ہے ۔خلیفہ نے اسی وقت فیصلہ سناتے ہوئے شہزادے کو حکم دیا کہ وہ ابھی اور اسی وقت بڑھیا کی زمین واپس کردے بالآخر بڑھیا دربار سے اس حال میں باہر نکلی کہ اس کی زمین اسے مل چکی تھی اس نے خلیفہ کو ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے یہ دعا بھی کہ اللہ خلیفہ کی حکومت کو مزید مستحکم کرے تاکہ میری طرح کوئی بھی مظلوم کبھی خلیفہ کے انصاف سے محروم نہ رہے ۔ 

یادش بخیر تھا کبھی دور مئے نشاط، ہمارا ملک ہندوستان بھی اک دور میں سونے کی چڑیا کہلاتا تھا جہاں امن و انصاف کا بول بالاتھا لیکن یہ باتیں اب صرف کتابوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہیںجو محض فکشن اور افسانہ لگتی ہیں (اب تو کتابوں میں بھی تحریف کی جانے لگی ہے ) بی جے پی کے دور اقتدار میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کا عمل بے حد تیز ہوگیا ہے جہاں کئی سالوں سے گایوں کے تحفظ کے نام پر تشدد جاری ہے اور اب تک اموات کی تعداد سو سے تجاوز کرچکی ہے مہلوکین کو انصاف تو کجا ان کے ورثا پر تشدد اس لئے کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی زبان کیوں کھولتے ہیں اور انصاف کی گہارکیوں لگاتے ہیں ،اس معاملے میں جن انصاف پسند شہریوں نے ان کی آواز میں آواز ملائی ان کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈالے گئے اور انہیں خاموش رہنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔رام پنیانی ،عامر خان اور نصیر الدین شاہ جیسے متعدد لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہیں دیش دروہی تک کہہ دیا گیا اور پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا گیا ۔ 

ذہن پر زورڈالیں اسی گندی ذہنیت نے ماضی میں راجستھان کے راجسمندمیں ایک انسان کو کاٹا ، جلایا پھرویڈیو بھی بنایا اور سب کو دکھا دیا ۔جو کاٹا گیا ،جلایا گیا ،مسلمان تھا ، جو ماررہا تھا وہ ہندو تھا ۔موجودہ سیاست اور ٹی وی مسلسل جو زہر بورہے ہیںوہ درخت اب بہت تناور ہوچکا ہے ۔فرقہ پرستی اب تو انسانی بم میں بھی تبدیل ہونے لگی ہے ۔ایسے بہت سے انسانی بم ہمارے درمیان گھوم رہے ہیں ۔اس کی چپیٹ میں کون آئے گا کسی کو پتا نہیں ۔ممکن ہے اسکول سے لوٹتے وقت ، کالج میں کھیلتے وقت ، کسی معمولی جھگڑے میں تشدد کا یہ خون سوار ہوجائے اور بات بات میں آپ کے گھر کا بھی کوئی شخص قاتل بن جائے ،اس کو یہ طاقت اسی گندی سیاست اور سوچ سے مل رہی ہے جس کو آپ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دن رات پال پوس کے بڑا کررہے ہیں ،کٹر پن اور مذہبی پہچان کی سیاست کیلئےبہت سے قاتل چاہئیں جودوسروں پر حملہ کرنے کے کام آسکیں ۔اس طرح کی سیاست سے خود کو دوررکھیں ورنہ آپ انسانیت سے دور ہوتے چلے جائیں گے ۔ان حالات کی سنگینی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ دنوں ملک کے سیکڑوں فلمسازوں نے ووٹرس سے اپیل کی ہے کہ وہ حالات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے ملک میں تیزی سے پھیلتی جارہی فرقہ واریت کے خلاف اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں ان کے مطابق ’’ ہمارا ملک اب تک کے سب سے مشکل دور سے گزررہا ہے ۔سنسکرتی طور سے زندہ اور جغرافیائی طور سے مختلف ،ہم ایک ملک کے طور پر ہمیشہ متحد رہے ہیں لیکن اب یہ سب کچھ داؤ پر ہے ۔یاد رکھیں اگر ہونے والے انتخابات میں ہم نے دانشمندی کے ساتھ حکومت کا انتخاب نہیں کیا تو فاشزم کا خطرہ پوری طاقت کے ساتھ ہم پر حملہ کرے گا ۔‘‘ ملک میں پولرائزیشن اور نفرت کی سیاست ، گئورکشا کے نام پر تشدد، دلتوں، مسلمانوں اور کسانوں کو حاشئے پر دھکیلے جانے کی سیاست کے خلاف ہمیں متحد ہونا ضروری ہے اور ایک ایسی حکومت کے انتخاب کیلئے ہمیں آگے آنا ہے جو ملک کے آئین کی پاسداری کرے اور سبھی قسم کی سینسر شپ سے پرہیز کرے ۔فلمسازوں کے بعدہی تقریبا ً ۲۰۰کے قریب قلمکاروں کی جانب سے بھی اسی قسم کا اعلان سامنے آیا ہے ان قلمکاروں میں امیتاؤ گھوش ، اروندھتی رائے ،گریش کرناڈ، نین تارا سہگل اور رومیلا تھاپر شامل ہیں ان کے مطابق یہ وقت بڑا نازک ہے اور نفرت کی سیاست کو ووٹ کی طاقت سے ختم کرنے کیلئے یہ بڑا اہم موقع ہےجس کا استعمال کرکے ہم ملک کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں ۔ آؑپ کیا سوچ رہے ہیں ۔؟


Mutbadel Ki Talash by Saleem Safi

by

متبادل کی تلاش – سلیم صافی


آپ کس کس اسد عمر کو بدلیں گے، یہاں تو ہر کونے میں اسد عمر بیٹھا ہے۔ اس صدر مملکت کا کیا کریں جو فرمایا کرتے تھے کہ ایوان صدر میں نہیں 
رہیں گے لیکن اب اس کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے اڑانے کے بعد کبھی مشاعروں پر کروڑوں روپے اڑاتے ہیں تو کبھی ان کی اہلیہ پُر تعیش دعوتوں کا اہتمام کرتی نظر آتی ہیں۔ ممنون حسین کی طرح کام ان کا کوئی نہیں لیکن پروٹوکول اور سیکورٹی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کنونشن سینٹر میں اس وجہ سے امام کعبہ کی تقریب میں سعودی مہمانوں کو دھکے کھانا پڑے اور علمائے کرام تک کو ہال سے باہر رہنا پڑا۔ شروع میں نمائش کے لئے کبھی ائرپورٹ پر قطار میں کھڑے ہو کر اور کبھی بنچ پر لیٹ کر تصاویر بنوانے کی ڈرامہ بازی کرتے رہے لیکن اب ان کی شان ہی نرالی ہو گئی ہے۔


Image result for arif alvi airport line
Image result for arif alvi airport line
Image result for arif alvi airport sleep

وزیراعظم جب وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے اور وہاں پر موجود بھینسوں کی نیلامی کا ڈرامہ کر رہے تھے تو ہم چیخ رہے تھے کہ ایسا نہ کیا جائے کیونکہ غیر ملکی مہمانوں کی آمد کی صورت میں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن اس وقت چونکہ دکھاوا مقصود تھا، اس لئے اس گھر کے باتھ روموں تک کی ویڈیوز دکھا کر اعلان کیا گیا کہ اس کو یونیورسٹی بنا دیا جائے گا لیکن پھرجب محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آرہے تھے تو یہ سوال در پیش ہوا کہ ان کو گارڈ آف آنر کہاں دیا جائے اور انہیں کہاں ٹھہرایا جائے، چنانچہ یوٹرن لے کر وزیراعظم ہائوس کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہوا اور اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ اب ایک تو اس کی ہر چیز حقیقی معنوں میں شاہانہ بن گئی اور دوسرا محمد بن سلمان نے اپنے جم کے سامان کو یہاں پر چھوڑ دیا۔ چند روز قبل وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس کا دورہ کیا اور جب عالی شان باتھ رومز اور جم کا شاہانہ سامان دیکھا تو ان کا دوبارہ وہاں منتقل ہونے کے لئے دل مچلنے لگا۔ جب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں آگ کا بہانہ مل گیا تو اسی روز وہاں منتقل ہو گئے۔ کابینہ کا اجلاس بھی اگلے روز وہاں طلب کیا گیا لیکن جب میں اس یوٹرن کو سامنے لے آیا تو اگلے روز پھر میٹنگز کے لئے سیکرٹریٹ منتقل ہو گئے تاہم یہاں یونیورسٹی کا خیال ہمیشہ کے لئے دفن ہوتا نظر آرہا ہے۔


Image result for pm house imran khan

غرض نادیدائوں کی ایک فوج ہے جو تبدیلی کے نام پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ چند روز قبل وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے درجنوں کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان داغ دیا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر چند روز میں قوم کو خوشخبری مل جائے گی حالانکہ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات میں عافیہ صدیقی کے موضوع پر کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہو گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستانی ہیں اور ان پر القاعدہ سے تعلق کا الزام ہے۔ امریکہ اور طالبان کا ابھی تک صرف جس نکتے پر اتفاق ہوا ہے، وہ امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کا غیر افغان عناصر سے ہر طرح کا تعلق توڑنے کا نکتہ ہے۔ یوں وہ عافیہ صدیقی جو غیرافغان ہے، کا موضوع زیر بحث ہی نہیں لا سکتے۔ ایک اور رکاوٹ یہ ہے کہ عافیہ صدیقی گوانتا نامو بے یا بڈگرام میں نہیں، جن پر امریکی عدالتوں کا اختیار نہیں بلکہ انہیں امریکی عدالت سے سزا دلوائی گئی ہے۔ وزیر موصوف کے بیان کے بعد میں نے وزارت خارجہ اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا تو ان کی طرف سے بتایا گیا کہ عافیہ کے موضوع پر ان دنوں کوئی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہو رہی ہے۔ میں حیران تھا کہ یہ دعویٰ وزیر صاحب نے کس بنیاد پر کیا ہے؟ اور جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ انہوں نے صرف اخبار میں سرخی لگانے اور لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ دعویٰ کیا۔


Image result for aafia siddiqui ali muhammad khan


وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی جو ان دنوں وزیر داخلہ کم اور خطیب یا ذاکر زیادہ دکھائی دیتے ہیں، تین دن کی تاخیر کے بعد ہزارہ کمیونٹی کے دھرنا دینے والے مظلوموں کی خبر گیری کے لئے جب کوئٹہ تشریف لے گئے تو خطاب کا جادو جگاتے ہوئے کہنے لگے کہ وزیراعظم نے ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی سے تفصیلی بات کی۔ حالانکہ ایران کے سابق صدر رفسنجانی کب کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔


Image result for hashmi rafsanjani
Image result for shehryar afridi quetta hazara

وزرا صرف ان تماشوں میں مصروف ہیں لیکن اہم فیصلے جہانگیر ترین اور ندیم بابر جیسے لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں اسد عمر واشگٹن میں آئی ایم ایف سے قرضے کی بھیک مانگ رہے ہیں اور یہاں یہ دونوں حضرات اس سے ملنے والی رقم سے سرکولر ڈیٹ کے ذریعے استفادے کی تیاریوں میں لگے ہیں۔


Image result for asad umar jahangir tareen

اصل حکومت کچھ اور لوگ چلا رہے ہیں ۔ بنی گالہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ پراسرار اور غیرمنتخب لوگوں سے بھر گئے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم کے ذاتی دوست اور خدمتگار ہیں۔ دوسری طرف ان ذاتی دوستوں کے دوست اور خدمتگاروں کے خدمتگار ہیں۔ پھر مختلف سرمایہ داروں اور کمپنیوں کے نمائندے ہیں جو تبدیلی لانے کے لئے اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ کوئی حکومتی عہدہ لے چکا ہے تو کوئی کسی بورڈ کا ممبر بن گیا ہے۔ گزشتہ کالم میں میں نے خیبر پختونخوا میں دس ڈیفکٹو وزرائے اعلیٰ کا ذکر کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرکز میں ہر محکمے اور ادارے کے درجنوں مختار بن گئے ہیں۔


Image result for ejaz shah

وزیراعظم نے مسلم لیگ(ق) کے خالق اور پرویز مشرف کے دست راست بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ کو نیشنل سیکورٹی ایڈوئزر لگانا چاہا۔ ان سے وعدہ کیا تھا۔ ان کے لئے دفتر بھی تیار ہوا۔ نوٹیفکیشن بھی تیار تھا لیکن اچانک انہیں ایک کال آئی اور انہیں اس اقدام سے یوں کہہ کر روک دیا گیا۔ چنانچہ وزیراعظم نے اعجاز شاہ سے معذرت کر لی لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ انہیں کہاں کھپایا جائے۔ چنانچہ انہیں پارلیمانی امور کا وزیر بنا دیا گیا اور اب انہیں وزیر داخلہ بنانے پر غور ہو رہا ہے۔ گویا نئے پاکستان میں کام کے لئے بندہ نہیں بلکہ بندے کے لئے کام ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تبدیلی لانے والے صرف چند ماہ بعد متبادل ڈھونڈنے لگ گئے ہیں

Dehshat Gardi Se Jung ke Naam Per by Orya Maqbool Jan

by

دہشت گردی سے جنگ کے نام پر – اوریا مقبول جان


گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا کو دہشت گردی کے نام پر خوفزدہ کرکے اسکی معیشت پر غلبے اور اسکی سیاست پر قبضے کا دھندا چل رہا ہے۔ نائن 
الیون کے فورا بعد جہاں امریکہ اور اسکے حواریوں نے نہتے اور کمزور افغانستان پر حملہ کیا، وہیں دنیا بھر کے بینکاری نظام اور کرنسیوں کے نیٹ ورک پر نگرانی سخت کردی، کیونکہ انہیں خوف محسوس ہونے لگا کہ انکے ذریعے دہشت گردوں کو اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ آسانی سے میسر آجاتا ہے۔ معاشی اداروں پر کنٹرول کا آغاز تو اس دن سے شروع ہو گیا تھا جب افغانستان سے آخری روسی فوجی روانہ ہوا تھا۔ روس کی شکست کے بعد ، افغان مجاہدین کے ہاتھ میں اسلحہ خطرناک ہوسکتا تھا کیونکہ وہ پلٹ کر شریعت کے نفاذ کا وہی نعرہ جو سوویت یونین کے خلاف لگایا گیا تھا، امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف بھی لگا سکتے تھے۔ اس لیے انہیں مالی طور پر کمزور اور اسلحہ خریدنے کے حوالے سے بے بس کرنا بہت ضروری تھا۔ یوں افغانستان سے روس کے نکلنے کے ٹھیک ایک سال بعد 1989ء میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) بنائی گئی جسکو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ بڑھتی ہوئی منی لانڈرنگ پر قابو پائے گی۔ تقریبا بارہ سال بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہو گیا، دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک نعرہ بن گیا، اور نعرے کی گونج میں اس ٹاسک فورس کو ایک بہت بڑا اختیار مل گیا کہ اب اس نے دہشت گردوں کی مالی معاونت (Terror Financing) کو روکنا ہے۔ اس ٹاسک فورس کی چالیس سفارشات ہیں جنہیں دنیا کی تمام عالمی قوتیں بزور ِطاقت ،کمزور ملکوں پر نافذ کرتی ہیں۔ ان تمام سفارشات کا تعلق صرف سرمائے کی نقل و حمل سے ہے، تاکہ سرمایہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں نہ آجائے جس سے وہ اسلحہ خرید لیں۔ لیکن اسلحے کی نقل و حمل کے کاروبار پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ جس دن سے یہ ٹاسک فورس بنی ہے غیر قانونی اسلحے کی تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ کاروبار دوسری جنگ عظیم کے بعد اس لیے چمکاکیونکہ امریکہ اور یورپ کے اسلحہ ساز ،دنیا بھر میں چھوٹے چھوٹے میدان جنگ چاہتے تھے تاکہ اسلحہ کی کھپت جاری رہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں بہت سے ’’ وار تھیٹر” تخلیق کیے گئے۔ جنوبی امریکہ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، جنوبی ایشیا، غرض ہر جگہ پہلے کیمونزم کے خلاف قوم پرستانہ جنگوں کا نعرہ بلند ہوا اور اسکے بعد اسلام کو ایک ہتھیار بنایا گیا۔ پوری دنیا میں اسلحے کی سمگلنگ کے روٹ بنائے گئے، جن کو حکومتوں، لوکل وار لارڈز اور سیاسی اور قبائلی رہنماؤں سے تحفظ فراہم کیا گیا۔ جہاں ڈالر میسر تھے وہاں سے ڈالروں میں قیمت حاصل کی گئی، جہاں مرضی کی کرنسی نہیں تھی وہاں ہیرے تو کہیں سونا ، غرض جو بھی متبادل میں ملا اسے لے لیا گیا۔ جہاں قیمتی دھاتیں میسر تھیں وہاں ان سے تبادلہ ہوا اور جہاں کوکین، ہیروئن، افیون اور دیگر منشیات موجود تھیں وہاں اسلحے اور منشیات کے کاروبار کا چولی دامن کا ساتھ بن گیا۔ شروع شروع میں بریف کیسوں اور بڑے بڑے بکسوں میں ڈالر ادھر سے ادھر منتقل ہوتے رہے، اسکے بعد ذرا پابندی لگی تو کریڈٹ کارڈ سے سرمایہ ادھر ادھر ہونے لگا، اور اب انٹرنیٹ پر ڈارک ویب کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی تخلیق کی گئی اور اسلحے کا کاروبار چمکایا گیا۔ اسوقت اس ڈارک ویب پر 12 ایسی مارکیٹیں کام کرتی ہیں جنہیں crypto marketsکہا جاتا ہے جہاں حکومتوں کی کرنسیاں نہیں چلتیں بلکہ ان سمگلرز کے اپنے سکے چلتے ہیں جو دراصل انٹرنیٹ پر ہی تخلیق ہوتے ہیں، وہیں انکی قیمتیں بڑھتی گھٹتی ہیں اور وہیں یہ سب کاروبار ہوتا ہے۔ رینڈ کارپوریشن 19 جولائی 2017 ء کو اپنی ایک تحقیق منظر عام پر لائی جسے مانچسٹر یونیورسٹی کی پروفیسر جوڈتھ آلڈریج (Judith Aldrige) نے تحریر کیاتھا۔ اسکے مطابق اب ڈارک ویب دنیا بھر میں غیر قانونی اسلحہ بیچنے کا بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے اور اس پر بکنے والا ساٹھ فیصد اسلحہ امریکی ہے۔ ڈارک ویب کے علاوہ بھی یورپ کے تمام ممالک میں غیر قانونی اسلحے کے تاجر موجود ہیں جو دنیا بھر میں ہونیوالی سول وار، قبائلی جنگوں، علاقائی قتل و غارت کے لیے اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ مشرقی یورپ کے ممالک میں ان ہتھیاروں کے بڑے بڑے سٹور بنائے گئے ہیں۔ بلجیم اور یوکرین سے پائلٹ جہازوں میں اسلحہ لے جا کر افریقہ سے افغانستان تک ہر جگہ اپنے گاہکوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ 2002 ء کا وہ مشہور واقعہ جس میں یوگوسلاویہ کی فوج سے پانچ ہزار کلاشنکوف خریدی گئیں اور انہیں نائجیریا کے لیے ایک قانونی تجارتی مال کے طور پر روانہ کیا گیا۔ جہاز کچھ دیر کے لئے پٹرول لینے کے لیے لیبیا کے ایک دور دراز ہوائی اڈے پر اترا اور اسلحہ افریقہ میں لڑنے والے گروہوں تک پہنچ گیا۔ اسوقت دنیا میں اسلحہ کی مارکیٹ سالانہ 60 ارب ڈالر کی ہے جس میں سے 18 ارب ڈالر چھوٹے ہتھیاروں مثلاً پستول، کلاشنکوف وغیرہ پر لگائے جاتے ہیں۔ ان میں ملکوں کے بڑے بڑے سودے شامل ہیں۔ 60 ارب ڈالر میں سے 12 ارب ڈالر کا اسلحہ غیر قانونی طور پر بیچا جاتا ہے۔ یہ اسلحہ دنیا کے ہر خطے میں آپس میں لڑنے والے گروہوں تک باحفاظت پہنچایا جاتا ہے۔ یہ واحد کاروبار ہے جس میں قیمت اسوقت وصول کی جاتی ہے جب مال گھر یا مطلوبہ مقام پر پہنچ جائے۔ راستے میں نقصان، پکڑے جانے، یا چھینے جانے کا سارا ذمہ اسلحہ سپلائی کرنے والے پر ہوتا ہے۔ اور اسکی حفاظت کا ذمہ بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اسی لئے ان تمام عالمی راستوں پر جہاں سے یہ غیر قانونی اسلحہ گزرتا ہے، لوٹ مار نہیں ہوتی۔ حکومتیں اور حکومتی اہلکار خریدے جا چکے ہوتے ہیں اور پھر اسلحہ خواہ جہاز سے جائے، ٹرین سے یا پھر ٹرک سے، باحفاظت منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔ اسلحے کے اس سارے غیر قانونی کاروبار پر کوئی پابندی نہیں لگائے گا، اس لیے کہ اس کاروبار پر عالمی طاقتوں کی اجارہ داری ہے اور وہ اس کاروبار کو وسعت دینے کے لیے دنیا کے ہر کونے میں جنگوں کا بازار گرم کرتی رہتی ہیں۔ لیکن اب اسلحہ خریدنے والوں نے کرنسی کی بجائے سونے چاندی وغیرہ میں اسلحہ خریدنا شروع کردیا ہے تو ان طاقتوں کی جعلی کاغذی کرنسیوں کی قدر و قیمت میں کمی آنے لگی ہے۔ اب شرط صرف ایک ہے۔خریداری ہماری جاری کردہ کرنسی میں ہوگی۔ تمہاری لاشوں پر ہم اپنی معیشت مضبوط کریں گے۔ اسی لئے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے کہا ہے کہ ملک میں سونے کی خرید و فروخت کو بذریعہ کیش روکا جائے اور انہیں بینک کے ذریعے ، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کا پابند کیا جائے، ایسا صرف اس لئے کہ جو بھی سونا خریدے گا وہ ان طاقتوں کی نظروں میں آئے گا اور پھر جب وہ ڈالر کی بجائے سونے سے اسلحہ خریدنے کی کوشش کریگا تو ایسا کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ بن جائے گا، وہ شخص بہت بڑا دہشتگرد کہلائے گا۔ اسلحے کی منڈیاں ایسے ہی سجی رہیں گی، لیکن خبردار اگر انہیں ہماری مرضی کی کرنسی یا مرضی کی دکان کے علاوہ کسی اور سے خریدا۔ دیکھو !دہشت گردی کی جنگ جاری ہے تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔لیکن ان تمام پابندیوں کے باوجود سید الانبیاء ﷺکی یہ پیشگوئی پوری ہونے کے دن آگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر ابن مریم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے حضور نبی اقدس ﷺسے یہ کہتے سنا ہے کہ ایک وقت بنی آدم پر آئیگا جب کوئی چیز سوائے درہم و دینار کے کام نہ آئیگی (مسند احمد)۔ سونے اور چاندی کے وہ سکے جن میں کاروبار کا حکم میرے آقا نے دیا تھا وہ ایک دن اس جعلی کرنسی کو شکست دے دینگے۔ اس دن یہ دہشت گردی کے خلاف نہ عالمی اتحاد کام آئے گا اور نہ ہی فنانشل ٹاسک فورس

Andheri Raat by Hamed Mir Urdu Article

by

اندھیری رات – حامد میر

چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔ شہباز شریف کی رہائی اور پھر نواز شریف کو علاج کے لئے چھ ہفتوں کے لئے گھر جانے کی اجازت ملنے پر مسلم 
لیگ (ن) والوں کو یہ امید نظر آنے لگی تھی کہ اُن کا مشکل وقت ختم ہونے والا ہے۔ پھر حنیف عباسی پر رات کے اندھیرے میں مسلط کی جانے والی عمر قید کی سزا بھی معطل ہو گئی تو کہا جانے لگا کہ بہت جلد خواجہ سعد رفیق اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر گرفتار ساتھی بھی رہا ہو جائیں گے لیکن اچانک شہباز شریف اور اُن کے خاندان پر منی لانڈرنگ اور ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے کے نئے الزامات کی بھرمار ہو گئی۔ جعلی اکائونٹس سے رقوم وصول کرنے کی دستاویزات ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی جانے لگیں۔ یہ ویسے ہی الزامات ہیں، جیسے آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر لگائے گئے اور وہ اُن الزامات کے تحت قائم ہونے والے مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے اِن نئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو دستاویزات ہمیں دکھائی جا رہی ہیں، نئی نہیں کافی پرانی ہیں تو پھر یہ پہلے سامنے کیوں نہیں لائی گئیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اب شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو گرفتار کرنا ہے تاکہ اُنہیں آنے والے دنوں میں حکومت پر دبائو ڈالنے سے روکا جائے؟ حکومت کے کچھ وزراء کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) والوں کو جہاں سے فیض مل رہا تھا اب نہیں ملے گا۔ ہم نے دلیل دی کہ فیض تو عدلیہ سے مل رہا تھا، آپ کو کیسے پتا کہ عدلیہ کا رویہ بدل جائے گا لیکن وزراء صرف یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو فیض ملے گا اور نہ ہی این آر او، اگر یہ سب درست ہے تو پھر آج کل تحریک انصاف کی صفوں میں اتنی کھلبلی کیوں نظر آتی ہے؟ کابینہ کے اجلاسوں میں وزیر خزانہ اسد عمر پر اتنی تنقید کیوں ہو رہی ہے؟ معلوم ہوا ہے کہ اسد عمر کو وزارت خزانہ سے وزارت پٹرولیم میں تبدیل کیا جا رہا ہے لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ نیا وزیر خزانہ آتے ہی معیشت کو سنبھال لے گا؟ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ دسمبر تک معیشت درست ڈگر پر چڑھ جائے گی لیکن معاشی استحکام کا تعلق سیاسی استحکام سے ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت کیسے درست ہوگی؟
عمران خان اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ہمیں کرپٹ لوگوں کے احتساب کا مینڈیٹ ملا ہے، ہم کرپٹ لوگوں کے ساتھ کوئی سودے بازی نہیں کریں گے اور اُن کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کرپٹ قرار دے کر سو دفعہ جیل میں ڈالے لیکن اچانک عدلیہ پر تنقید کیوں شروع کر دی گئی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کے ججوں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے درمیان جو بھی ہوا وہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کا باقاعدہ آغاز نظر آتا ہے اور اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لکھے گئے فیصلے پر اعتراض کا آئینی حق ہر پاکستانی کو حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک انصاف پر کون سا اعتراض کر دیا تھا؟ یہ وہی جج ہے جس نے میمو گیٹ کمیشن کے زمانے میں پیپلز پارٹی کو ناراض کیا، سانحہ کوئٹہ کی انکوائری میں مسلم لیگ (ن) کو ناراض کیا اب تحریک انصاف بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراضات کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کرکے یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دلوایا، مسلم لیگ (ن) اس راستے پر چلی اور نواز شریف کو نااہل قرار دلوایا اب تحریک انصاف بھی اسی راستے پر چڑھ دوڑی ہے۔ خدا خیر کرے، جب اس عدلیہ نے نواز شریف کو نااہل کیا تو یہ عدلیہ بڑی اچھی تھی۔ اچانک یہی عدلیہ بری کیوں ہو گئی؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جس طرح نیب حکومت کے سیاسی مخالفین کے لئے عذاب بنی ہوئی ہے عدلیہ بھی ایک عذاب بن جائے؟ عدلیہ کو تو آئین و قانون کے مطابق چلنا ہے اور شاید اسی لئے اب آئین بدلنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔
جس ملک میں حکمران اپنے وعدے پورے نہ کر سکیں اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری آئین پر ڈال دیں وہاں استحکام کیسے آئے گا؟ کچھ دن پہلے تک عمران خان کہہ رہے تھے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کو زیادہ فنڈ دینا پڑتے ہیں اور وفاق کے پاس فنڈ کم پڑگیا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کو اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن اب تو تحریک انصاف کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر صدارتی نظام کے لئے مہم شروع کر رکھی ہے۔ غور کیجئے! جس پارٹی کی حکومت قومی اسمبلی میں صرف چار ووٹوں کی اکثریت رکھتی ہے اس کے حامی صدارتی نظام کی بات کر رہے ہیں۔ وہ صدارتی نظام جو آپ نے بندوق کے زور پر نافذ بھی کیا اور آزما بھی لیا۔ یہ صدارتی نظام 1962ء میں جنرل ایوب خان نے نافذ کیا اور 1969ء میں اسے توڑ کر اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔ صدارتی نظام کا نتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلا اور اس مارشل لاء نے پاکستان بھی توڑ ڈالا۔ تحریک انصاف کو جنرل ایوب خان کا ناکام تجربہ دہرانے کے خواب دیکھنے کے بجائے پارلیمانی نظام کے اندر رہ کر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہئے۔ پی آئی اے اور ریلوے تو کسی صوبے کے کنٹرول میں نہیں۔ ان اداروں کو آپ بہتر کیوں نہیں بنا سکتے؟ ایف بی ا ٓر وفاق کے کنٹرول میں ہے، آپ ایف بی آر کو بہتر کیوں نہیں بناتے؟ صدارتی نظام کا مطلب یہ ہے کہ آپ پاکستان پر ایک بڑے صوبے کی اجارہ داری قائم کریں گے کیونکہ صدر تو پھر وہیں سے آئے گا جہاں سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ آپ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے وعدے پر عملدرآمد کیوں نہیں کر رہے ؟ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس معاملے پر آپ کا ساتھ دیں گے کیونکہ پھر وسطی پنجاب میں تحریک انصاف کی نہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی۔
عمران خان سے گزارش ہے کہ صرف کابینہ میں تبدیلیوں سے معیشت بہتر نہیں ہو گی، سیاسی استحکام بھی ضروری ہے۔ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی سے سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ سیاسی استحکام پیدا کرنا صرف حکومت نہیں اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے۔ جب بھی اپوزیشن کے خلاف کوئی الزام آتا ہے تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اندر کوئی جمہوریت نہیں۔ یہ جماعتیں اپنے آئین کی پابندی نہیں کرتیں، پاکستان کے آئین کا کیا دفاع کریں گی؟ عمران خان صرف وہ کرنے کی کوشش کریں جو ان کی دسترس میں ہے۔ وہ کام شروع نہ کریں جسے وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ عدلیہ کو پرویز مشرف، آصف زرداری اور نواز شریف فتح نہیں کر سکے، عمران خان بھی عدلیہ کو فتح نہیں کر سکتے۔ تحریک انصاف کو ادارہ انصاف کے ساتھ لڑائی زیب نہیں دیتی، جو آپ کو اس لڑائی میں دھکیل رہا ہے وہ آپ کا دوست ہے نہ اپنا دوست ہے۔ چار دن کی چاندنی کے بعد اندھیری رات کی طرف مت بڑھیے